Essay on Allama Iqbal Message (اقبال کا پیغام) in Urdu for all students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

 اقبال کا پیغام

حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا شمار علامی سطح کے ان شعرا کے ہر اول دستہ میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف شاعری کو فنی عظمت سے ہمکنار کیا بلکہ اپنے پرکیف انداز اظہار سے مردہ اذہان میں حیات بخش افکار بھر دیے۔ انہوں نے خواب غفلت میں گراں بار قوم کو بیداری کی نوید دے کر ایک عظیم انقلاب برپا کردیا۔


اقبال نے ایک ایسے دور میں آنکھ کھولی جب مسلمان ہر طرف نکبت و ادبار کا شکار ہو رہے تھے اور یوں انحطاط کی انتہائی پستی میں پہنچ کر اپنے مذہب کی زندگی بخش تعلیم سے مایوس ہوتے جارہے تھے۔ یہی وہ دور ہے کہ جس میں مسلمان علم مغرب کی مادی ترقی کی چمک دمک کے ہاتھوں بےیقینی کی دلدل میں دھنس رہے تھے اور اسی راستے پر گامزن ہونے کے لیے مختلف قسم کی تاویلیں کررہے تھے۔ اقبال کی مسلمانانہ دانش مندی اور مومنانہ بصیرت نے جہاں مغربی تمدن کی بنیادی کمزوری کو بےنقاب کیا وہاں اس نے اسلام کی بنیادی حقیقتوں کو نمایاں کرنے میں مسلمانوں کی مدد کی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں یہ چیز واضح ہوچکی تھی کہ مسلمان مستقبل قریب میں دنیا میں پھر اسلام کا صحیح اور عملی تصور پیش کرکے دنیا کو اس تباہی سے بچانے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کے طرف مغرب انہیں گھسیٹ رہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانان عالم میں اوالعزمی، بلند ہمتی اور قلندرانہ بےباکی پیدا کرنے کے لیے اپنا فلسفہ خودی پیش کیا۔

فلسفہ خودی کو اقبال کے کلام میں اساسی حیثیت حاصل ہے۔ خودی دراصل وجدان کی ایسی منزل ہے جہاں پہنچ کر انسانی روح کو اپنے آپ سے اور اپنے مقصود زندگی سے شناسائی ہوجاتی ہے مزید برآں اسے انسانی ترفع کا احساس فراواں ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جسے علامہ اقبال نے خودی کے نام سے موسوم کیا ہے۔ خودی سے استکبار و افتخار مراد نہیں بلکہ اس سے استقلال ذاتی مراد ہے جو ہر مخلوق کے علم وعمل کو ایک مخصوص دائرے میں نمایاں کرتا ہے اور اس کی ذات و صفات کی بودونبود کے مظاہر متعین کرتا ہے اور اس کی نشونما اور بالیدگی کے سامان فراہم کرتا ہے۔

خودی کا کفظ مختصر ہے لیکن اپنی جامعیت اور کلیت کے لحاظ سے اپنے وسیع معنی رکھتا ہے۔ علامہ نے اس اصطلاح کو اپنے کلام میں شعور ذات اور عرفان کائنات کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ گویا یہ لفظ انسان کے انفرادی اور اجتماعی جملہ پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ ان کا فلسفہء خودی جہاں ان کے جملہ افکار و نظریات کا محور ہے وہاں ان کے فکری اور سیاسی انقلاب انگیز پیغام کی اساس بھی ہے۔ خودی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے علامہ نے اسے(خودی کو) کتاب  اور باقی تمام حیات کو اس کی “تفسیریں “قرار دیا ہے۔

خودی سے مردِخود آگاہ کا جلال و جمال

کہ یہ کتاب ہے باقی تمام تفسیریں

جن لوگوں نے علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کے تصور کو غلط مفاہیم کا لباس پہنایا ہے وہ بہت بڑی غلطی پر ہیں۔ اس میں مغربی دانشور بھی ہیں اور صوفیہ حضرات بھی۔ اقبال وجودی صوفیہ کے اسی لیے مخالف ہیں کہ انہوں نے اپنے عقیدے سے خدا کے وجود کے علاوہ ہر وجود کی نفی کردی ہے اور دنیا کو خدا کا عکس قرار دے کر ہر چیز کو وہم و گمان قرار دے دیا تھا۔ جس کا وجود صرف دماغ میں تو ہے لیکن خارج میں نہیں۔ اس لیے موجودہ زمانے میں اگر مسلمانوں کو تمام قوموں کے ساتھ تمدنی ترقی کے میدان میں دوش بدوش چلنا ہے تو ان کو نظری عملی اور اخلاقی حیثیت سے ایک ایسی زندگی بسر کرنا پڑے گی جو خودی کے تقاضوں کے مطابق ہو اور زمانے کی رفتار ترقی کا ساتھ دے سکے۔

خودی کا سر نہاں، لاالہ الا اللہ

خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ

علامہ اقبال کے نزدیک خودی اپنے دائرہ حیات کو وسیع کرتی ہے اور خودی ہی اپنی بقا کا سامان مہیا کرتی ہے۔ یہ اپنی سعی پیہم اور کشمکش سے لازوال ہوجاتی ہے خودی کی تکمیل میں فطرت سب سے بڑی رکاوٹ اور مزاحمت پیدا کرتی ہے جس پر غلبہ حاصل کرنا ازبس ضروری ہے اور یہ حقیقت ہے کہ فطرت پر غلبہ حاصل کرنے سے ہی خودی کی تکمیل ہوتی ہے۔

خودی کیا ہے راز درون حیات

خودی کیا ہے بیداری کائنات

ازل اس کے پیچھے ابد سامنے

نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے

زمانے کے دھارے میں بہتی ہوئی

ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی

ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر

ہوئی خاک آدم میں صورت پذیر

علامہ اقبال کی مبلغانہ فکر میں دو چیزیں پہلو بہ پہلو چلتی ہیں، ایک تہذیب مغرب پر مخلفانہ تنقید اور دوسرے اسلامی نظریہ حیات کی نجات بخش تعلیم۔ اس میں شک نہیں کہ ایشیا کم و بیش تین سو سال تک مسلسل زوال پذیر رہا اور فرنگ کا ہر کوچہ ترقی اور تابناکی کے سفر پر رواں دواں رہا۔ اسلامی دنیا میں تاتاریوں کے غارت گری کے بعد علوم و فنون نے ترقی کا کوئی قدم نہ اُٹھایا گیا۔ گوتصوف میں صاحبان کمال بہت سے پیدا ہوئے مگر علمی ترقی کا شجر ویرانی کی امر بیل کے حصار میں رہا۔ تحقیق و تدقیق کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی گئی اور یہ بات ذہنوں میں جگہ پاگئی کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہوگیا ہے۔ علامہ صاحب اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا درس دیتے ہیں مجہتد اور مجاہد ستاروں پر کمند ڈال سکتے ہیں، ستاروں سے آگے جاسکتے ہیں۔

دوسری زبانوں اور ان کی ادب سے مستفیض ہونا نہایت احسن امر ہے۔ انگریزی ادب میں پرسی بائسی شیلے ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے جو ہان وولف گینگ فان گوئٹے کی متعدد منظومات کے تراجم کیے ہیں۔ اسی طرح لانگ فیلو کی کتب بھی گوئٹے کے اثرات و خیالات سے مملو ہے۔ فٹزجیرالڈ نے جو امام خمریات عمر خیام کی رباعیات کا ترجمہ کیا ہے اس کا شمار انگریزی ادب کے کلاسیک میں ہوتا ہے۔

علامہ اقبال نے بھی جرمن اور انگریزی ادبیات (ایمرسن، لانگ فیلو، ولیم کوپر) سے خوشہ چینی کی۔ ان کی منظومات “ایک گائے اور بکری” “ایک مکڑا اور مکھی” “ایک پہاڑ اور گلہری” “ماں کا خواب” “بچے کی دعا” اور “ہمدردی” وگیرہ اس امر کی غماز ہیں۔ بچوں کے لیے نظموں کے علاوہ اقبال اپنے سنجیدہ افکار بھی یورپ کی دانش سے منور کیے۔ افکار و خیالات کے علاوہ اسٹائل کو بھی انہوں نے اپنایا۔ نواب مرزا خان داغ کی وفات پر اقبال نے جو مرثیہ لکھا وہ بالکل اسی انداز کا ہے جیسا میتھیو آرنلڈ کے لکھے ہوئے ولیم ورڈز ورتھ کے مرثیے کا ہے۔ آرنلڈ دہ تین تازہ مرحومیں شاعروں کی موت کا ذکر کرکے کہتا ہے کہ آج ہم ورڈز ورتھ کی قبر پر کھڑے ہیں۔ اقبال نے بھی داغ کے مرثیے کو اسی انداز سے لکھا ہے پہلے انہوں نے غالبؔ، مجروحؔ اور امیر مینائی کی وفات کا تذکرہ کیا ہے اور پھر داغ کا ذکر لائے ہیں۔

آج لیکن ہم نوا سارا چمن ماتم میں ہے

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے

علامہ اقبال کے پیغام میں وطنیت اور قومیت کے تصور کو خاص اہمیت حاصل۔ آپ فرماتے ہیں کہ وطنیت اور قومیت کا مسئلہ دور جدید سب سے بڑا شیطانی ہتھکنڈا اور ابلیسی جال ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو تعلیم دی کہ “اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے” لیکن مغربی دانشوروں اور مد بروں نے اس کے بالکل برعکس دوسرا راستہ وطنیت کا دکھلایا اور سجھایا ہے اقبال نے شروع ہی سے اس تصور کی مخالفت کی ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز اور اپنی شاعری کے شروع میں ہی انہوں نے اپنی ایک غزل میں کہا تھا:

نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمار نے بنایا

بنا ہمارے حصار ملت کی اتحاد وطن نہیں ہے

علامہ نے وطنیت کے اس تصور کو تہذیب نو کا تراشا ہوا بت قرار دیا تھا اور مسلمان کو باور کرایا کہ تو مصطفوی ہے۔ اور مصطفوی کو بت شکن کا منصب ملا ہے اور اسم منصب کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اس نئے بت کو بھی زمین چاٹنے پر مجبور کردے۔

اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور

ساقی نے بان کی روش لطف و ستم اور

مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور

تہذیب کے آذر نے ترشوائے صنم اور

🔹🔹🔹

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

مخلص اور سچا شاعر و فنکار عاشق ہوتا ہے اس کی عالمگیر محبت آفاقی حسن و جمال کی جستجو میں اپنے آپ کو ضم کردیتی ہے۔ حسن سو بہانوں سے بچ نکلنے کی کوشش کرتا ہے لیکن آرٹسٹ اپنے تخلیقی عمل کے تانے بانے میں اس کو پھانس لیتا ہے۔ شاعر و ادیب کی وجدانی کیفیت کے ختم ہوتے ہی حسن غائب ہوجاتا ہے۔ ہر اچھائی جب وہ حاصل ہوجاتی ہے تو اس میں کوئی نہ کوئی کوتاہی محسوس ہونے لگتی ہے ۔ زندگی کی نئی ضرورتوں اور زمانے کے بدلتے تقاضوں سے جب اس میں بے ربطی نظر آتی ہے تو انسان اپنے مقصد کو اور زیادہ پسند کرتا اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد شروع کردیتا ہے۔ احساس محرومی اور ہجر و فراق کی کیفیت تخلیق کا زبردست محرک ہے۔ اس لیے کہ اس سے لذت طلب میں شدت پیدا ہوجاتی ہے۔

علم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کر ہے فراق

وصل میں مرگِ آرزو ! ہجر میں لذت طلب

اقبال کا نظریہ فن کی تفہیم کے ضمن میں اس بات کو ملحوظ نظر رکھا جائے کہ وہ جسمانی اور مادی سرور پر زور نہیں دیتے۔ انہیں بڑا دکھ ہوا جب انہوں نے یہ دیکھا کہ ہندوستان کے تقریباً جملہ شعراء، ادباء، افسانہ نگار اور مصور اپنی تخلیقات کے توسل سے سفلی جذبات بھڑکانے میں لگے ہوئے ہیں اور زندگی کے مقابلے میں موت کا درس دے رہے ہیں اور اسطرح ان کے فن سے حاصل شدہ تاثرات روحانی اقدار کا گلہ گھونٹ رہے ہیں۔

عشق و مستی کا جنازہ ہے تخیل ان کا

ان کے اندیشہ تاریک میں قوموں کے مزار

موت کی نقش گری ان کے صنم خانوں میں

زندگی سے ، ہنر ان برہمنوں کا بیزار

چشم آدم سے چھپاتے ہیں مقامات بلند

کرتے ہیں روح کو خوابیدہ بدن کو بیدار

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس

آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

علامہ اقبال فکری طور پر اپنے مرشد معنوی مولانا جلال الدین رومی سے ازحد متاثر ہیں۔ اُن کے فارسی اور اردو کلام کے متعدد اشعار سے اس امر کا استنباط ہوتا ہے۔ “اسرار خودی” سے لیکر “جاوید نامہ” جگہ جگہ بڑے والہانہ انداز میں پیر رومی کی راہنمائی اور فیضان کا اعتراف بھی کیا ہے۔

علامہ اقبال کی مولانا روم سے محبت اور شیشفتگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ موصوف کو زندگی کے بارے میں اپنے طرز فکر سے بہت قریب پاتے ہیں اور ان کی تفکر کا یہ انداز “گفت آن کہ یافت می نہ شود آنم آرزوست” اقبال کو دلی طور پر پسند ہے۔ مزید برآں اقبال کی عقیدت و دلدادگی کا سبب یہ ہے مولانا روم کے افکار کا مآخز و منبع بھی قرآن مجید فرقان حمید ہے۔ اگر مثنوی مولانا روم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ “ہست قرآن درزبان پہلوی” تو اقبال کے کلام بھی آیہ قرآنی کی شرح اور اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے۔ اسی لیے اقبال رومی کو اپنا روحانی پیشوا سمجھتے ہیں اور فیضانِ نظر کا اعتراف کرتے ہیں۔

اسی کشمکش میں گزریں میری زندگی کی راتیں

کبھی سوز و ساز رومی، کبھی پیچ و تاب رازی

🔹🔹🔹

یا مرد قلندر کے انداز ملوکانہ

یا حیرت فارابی یا تاب و تب رومی

🔹🔹🔹

نہ اُٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

وہی آب و گل ایراں وہی تبریز ہے ساقی

اقبال کے پہلے مجموعہ کلام میں “بانگِ درا” میں عشق مجازی کا زیادہ بیان ہے مگر تدریجی طور اقبال عشق حقیقی کی طرف مائل ہوتے گئے۔ جب ان کے تخیل نے ایک نئی کروٹ لی اور ان کے ذہن نے راہبری ملت کی منصوبہ بندی شروع کردی تو ان کے ہاں “بالِ جبریل” کے وہ افکار گونجنے لگے جن میں عشق کی نئی معنویت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس معاملے میں اقبال مکمل طور مولانا روم کے تتبع میں ہیں۔ مولانا کا کہنا ہے کہ تکوین کائنات اور ارتقائے حیات دونوں کا سرچشمہ عشق ہی ہے۔

خدا خود اپنی ذات کا عاشق ہے۔ حدیث قدسی ہے وہ فرماتا ہے کہ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نہ یہ چاہا کہ پہچانا جاؤں چنانچہ میں دنیا خلق کر دڈالی گویا تکوین کائنات اسی عشق کی بدولت عمل میں آئی جو خدا کو اپنی ذات سے تھا۔ اور اللہ تعالیٰ جل شانہ سے زیادہ حسین و جمیل کوئی شے نہیں۔ وہ کسی دوسرے چیز پر عاشق ہی ہوسکتا البتہ اس میں سے اپنے حسن و جمال کا جلوہ دیکھ سکتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے اس نے کائنات تخلیق کر ڈالی۔

دہر جز جلوہ یکتائی معشوق نہیں

ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں (غالبؔ)

عشق کا عمل و تصرف صرف شعور میں ہی نہیں بلکہ مادے میں بھی ملتا ہے۔ جملہ مادی عناصر اور اجرام فلکہی مادی ذات کے باہمی جذب ہی سے قائم ہیں۔ اقبال خود کہتے ہیں:

ہیں جذب باہمی سے قائم نظام سارے

پوشیدہ ہے کہ نکتہ تاروں کی انجمن میں

ایک مرد مومن مختلف اور متنوع اخلاق و صفات کا حامل ہوتا ہے یہ تنوع دراصل اللہ کی صفات اور احوال کے مظاہرہیں اور مرد مومن انہی صفات کا مظہر ہوتا ہے۔ مثلاً کشادہ قلبی، عفو درگزر، حلم و بردباری میں وہ خدا کی صفت غفاری کا پر تو ہے۔ اسی طرح دین و حق کے بارے میں استحکام اور کفر و باطل کے لیے متشدد نظریات میں خدا کی صفت قہاری کا مظہر ہے۔ اس کی پاک نفسی اور پاک دامنی اللہ رب العزت کی قدوسی کی آئینہ دار ہے۔

ہر لحظہ مومن کی نئی شان نئی آن

گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

🔹🔹🔹

قہاری و غفاری قدوسی و جبروت

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

🔹🔹🔹

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

اقبال کا یہ پیغام صرف ایک شاعر کا پیغام نہیں بلکہ فطرت کے اس نقیب کا پیام ہے جو درون مے خانہ سب رازوں کا امین ہے۔ جس نگاہوں کے سامنے کائنات کے بےشمار راز فاش ہوچکے ہیں۔

اقبال کی ذات و کلام میں بےباکی اور بےخوفی کا عنصر دین اسلام کا ہی ثمر ہے۔ انہوں نے قرآن اور نبی پاک کے فرمان کو اپنے لیے مشعل راہ بنایا۔

“تم میں سے جو کوئی بدی کو دیکھے تو اس کے ہاتھ سے (قوت سے) روکے۔ اگر اس کی قدرت نہ رکھتا ہو تو زبان سے اور اگر اس کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو تو اسے دل سے برا سمجھے اور یہ (بدی کو محض دل سے برا سمجھنا) ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ “

علامہ صاحب بےباکی اور حق گوئی میں اپنی مثال آپ تھے یہی وجہ ہے کہ خطبہ الٰہ آبا کا متن پڑھ کر حکومت برطانیہ اور وزیر ہند بہت آزردہ ہوئے اور انگریز پرست طبقے کی طبیعت بھی بہت مکدر ہوئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس خطبہ صدارت سے ہندوستان کے طول و عروض اور انگلستان کے سیاسی حلقوں میں خاصی سنسنی پھیل گئی۔ کیونکہ خطبہ صاف گوئی، خود داری اور صداقت کا مظہر تھا۔ اقبال کو کسی اپنے یا بیگانے کی ناراضی کی کوئی پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ ہر زہر کو قند نہیں کہہ سکتے تھے۔

اپنے بھی خفا مجھ سے بیگانے بھی ناخوش

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

اقبال قرآن کریم کو وہ آئین اور ضابطہ حیات سمجھتے ہیں جو ہماری عاقبت کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی کے بھی عام شعبوں میں مکمل رہنمائی کا ضامن ہے۔ افراد و جماعت کے وجود استحکام کے لیے بنیاد اور ضابطہ حیات لازمی امر ہے۔ انسانی ہاتھوں سے تشکیل دیے جانے والا ضابطۂ حیات زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ناکامی سے ضرور دوچار ہوجاتا ہے مگر وحی الٰہی کے مطابق قرآن ہی ایسا ضابطہ حیات ہے جو کبھی تبدیل نہ ہو سکنے والا اور ہر دور میں صادق آنے والا قانون ہے۔

اقبال مسلمانوں کی کامیابی، کامرانی اور دینی و دنیاوی فتوحات کے ضمن میں کتاب اللہ سے گہری وابستگی کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ فقر حیدریؓ، دولت عثمانیؓ مسلمانوں میں ناپید کیوں ہوگئی ہے اور ان کا اپنے اسلاف سے روحانی نسبت کا عنصر مفقود کیوں ہے؟ اور یہ کہ ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی کیوں ہے؟ ان جملہ سوالات کا جواب اقبال یوں دیتے ہیں:

وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

اقبال کی شاعری میں جن جذبات اور خیالات کا اظہار ملتا ہے وہ دراصل ان کے دور رس وجدان کا نتیجہ ہے۔ وہ ذوق جمال کو زندگی سے علیحدہ تصور نہیں کرتے۔ انہوں نے آرٹ سے حسن آفرینی کے ساتھ ساتھ قدروں کی تخلیق کا کام بھی لیتے ہیں۔ علامہ اقبال نے جب یہ فرمایا:

نغمہ کجا و من کجا ساز سخن بہانہ ایست

سوئے قطار می کشم ناقہ بے زمام را

تو بین السطور ان کی کوشش یہی تھی کہ ساز سخن کو سحر آفرینی سے ہٹا کر خیال آفرینی پر مبذول کیا جائے۔ مگر یہ بات اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ ان کی فن کارانہ صناعی اور شاعرانہ اعجاز نے ہمیشہ دلوں میں گھر کیا۔ لفظ و خیال کی بحث میں ارتباط حرف و معنی، اختلاط جان و تن کا جو معیار مقرر کیا تھا اس کی مثال ان کی اپنی شاعری ہے۔

اقبال نے آرٹ یا شاعری کو مقصود بالذات کبھی نہیں سمجھا بلکہ اس کے ذریعے سے حیات انسانی فطرت اور تقدیر کے اسرار و رموز بے نقاب کیے ہیں۔

میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ

کہ میں محرم راز درون مے خانہ

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.