Essay on Existence of Women (وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ) in Urdu for All students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

 وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اس کارگاہِ قدرت میں خلَّاق اعظم نے اَن گنت حسین و جمیل نقوش تخلیق کیے ہیں ۔ ان میں عورت کا وجود خدا کی قدرت کاملہ کا حسین ترین نقش ہے جس کے دم سے کائنات زندگی کی اکثر رنگینیاں اور دلچسپیاں قائم ہیں ۔ عورت کے کئی روپ ہیں اور ہر روپ انوکھا ، منفرد اور دلکش ہے ۔ ماں کے روپ میں وہ ایک ایسی ہستی ہے جس کے احسانات ، مہربانیاں اور پیار و محبت شماریاتی حد و حساب سے باہر ہیں ۔ وہ اپنی اولاد کے لیے اپنا آرام ، چین اور سکون تج دیتی ہے ۔ رات رات بھر جاگ کر اس کی نگہداشت کرتی ہے ۔ اولاد تکلیف میں مبتلا ہو تو ماں احساس کی شدت کی سولی پہ لٹکتی رہتی ہے ۔ عباس تابشؔ نے اپنے ایک شعر میں ساری ماؤں کی محبت یوں بیان کی ہے ۔

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے


بہن کے روپ میں وہ پیار و محبت کا ایک ایسا دلکش مرقع ہے نظر آتی ہے ۔ بھائی اگر کسی مشکل میں ہو تو اسے اس وقت تک چین و قرار نہیں آتا جب تک کہ اس کا بھائی اس مشکل سے نکل نہیں جاتا۔

یہ عورت ہی ہے جو بیوی کے روپ میں محبت کی وہ دیوی ہے جو اپنے شوہر کو ہر حال میں خوش و خرم رکھنے کے لیے اپنی راحت کو بھی فراموش کر دیتی ہے ۔

Wives are young men’s mistress companion to middle age and old men’s nurse. (Francis Bacon)

نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے :

“نیک بیوی قدرت کا سب سے انمول تحفہ ہے ۔ “

بیٹی اور بہو کی شکل میں بھی وہ خوشی و مسرت کا استعارہ ہوتی ہے ۔ وہ ماں باپ کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بنتی ہے ۔

عورت کو ماں کے روپ میں اسلام نے جو درجہ دیا ہے وہ آج بھی کسی دوسرے ملک اور قوم میں نظر نہیں آتا ۔ بہن اور بیوی کی عزت کی پاسداری جس طرح اسلامی معاشرے میں کی جاتی ہے ، کسی معاشرے میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ مغرب کے بےلگام معاشرے نے عورت کو سفلی تسکین کا اشتہار بنا دیا ہے اور شمع محفل بنا کر اس کی توقیر میں کمی کی ہے جبکہ اسلام دین فطرت ہے جو عورت کو شمع خانہ قرار دیتا ہے ۔

تاریخ انسانیت کا المیہ ہے کہ دنیا کے ہر حصہ ، ہر زمنانہ میں عورتوں کے ساتھ انسانیت سور سلوک روا رکھا گیا ۔ ان کے بنیادی انسانی حقوق غصب کیے گئے ۔ ان مادی اور روحانی ترقی کے دروازے بند کر دیے گئے اور انہیں دنیا کی نظروں میں ذلیل ثابت کرنے کے لیے ناقص العقل ، ضعیف الفطرت اور شیطان سیرت ٹھہرایا گیا ۔

جین مت جسے قدیم ترین مذہب ہونے کا دعویٰ ہے ۔ اس کے رہنما مہابیر سوامی عورتوں کو بدی کی جڑ سمجھتے تھے ۔ جینیوں کا عقیدہ ہے کہ عورتیں موکش (نجات)حاصل نہیں کرسکتیں ۔ بدھ مذہب میں بھی عورت کو بدی کا سر چشمہ قرار دیا گیا یہاں تک کہ گوتم بدھ اپنی بیوی بچوں کو سوتا چھوڑ کر جنگل کو بھاگ گئے ۔ ہندو دھرم عورتوں کی تحقیر میں پیش پیش ہے ۔ چانکیہ برہمن کا کہنا ہے کہ عورت میں سات عیب جو جبل طور پر پائے جانے والے عیب “کذب بیانی ، بے عقلی ، دجل و فریب ، بےوفائی ، طمع ، ناپاکی اور بےرحمی ۔ “ہیں ۔

چند صدیاں پہلے کی بات ہے جب فرانس میں عورت کو سامان تجارت کی طرح سربازار فروخت کر سکتا تھا ، انگلستان کے کلیسائی محکمہ نے فرانس کی تقلید میں گیارھویں صدی عیسوی میں ایک ایسا قانون نافذ کیا جس کی رو سے خاوند کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی عورت ہبہ کر سکتا ہے اور کسی دوسرے شخص کو اُدھار دے سکتا ہے ۔

مذاہب عالم میں اسلام ہی واحد مذہب ہے جس نے عورت کی حرمت ذات مکمل طور پر تسلیم کی ۔ ارشاد ربانی ہے ۔

“اے ایمان والو! تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ ۔ ” (النساء)

فخر موجودات ، حضرت محمد ﷺ نے عورتوں کا وقار بلند کیا ۔ آپ نے بیٹی کی پیدائش کو رحمت و برکت کا ذریعہ قرار دیا اور بیٹی یا بہنوں کی خوش اسلوبی سے پرورش کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ۔

مغرب کے کئی ممالک میں مسلمان عورتوں پر یہ پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ سکارف نہیں پہن سکتیں ۔ جو خواتین اپنی اسلامی شناخت کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہیں انہیں تعلیمی اور پیشہ ورانہ اداروں سے نکا لا جا رہا ہے ۔ جو خواتین جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگینڈا کو سمجھ نہیں سکیں وہ روز بروز پردے سے بےنیاز ہوتی جارہی ہیں ۔ ان کا پہناوا جین کی پتلونیں اور بغیر آستین کی قمیصیں ہیں جو سراسر غیر اسلامی اور غیر اخلاقی لباس ہے ۔ آزادی نسواں کے نام عورت کی یہ تذلیل اہل مغرب اور مغرب زدہ ذہن ہی کرسکتے ہیں ۔ اگر جانبدار اور غیر متعصب ہو کر اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو اس بات میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اسلام نے عورت کو جو عزت ، مرتبہ اور مقام بخشا ہے وہ کسی بھی دور میں کسی بھی مذہب نے آج تک عورت کو نہیں دیا ۔

وہ رُتبہ عالی کوئی مذہب نہ دے گا

کرتا ہے جو عورت کو عطا مذہب اسلام

مسلمان خواتین اشد ضرورت کے وقت گھر سے باہر بھی جاتی رہی ہیں ۔ جنگ کے میدان میں زخمیوں کی مرہم پٹی بھی کرتی رہی ہیں ۔ انہیں پانی پلاتی رہی ہیں مگر دینی حکم یہی ہے کہ باہر نکلو تو پردے کے ساتھ ، نگاہوں کی حیا کو زیور بنائے ہوئے اور سادگی کو اپنائے ہوئے ۔ سربازار زیب و زینت کے اظہار کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا ۔

اسلام نے معاشرے میں عورت کا مقام متعین کرنے کے سلسلے میں فطرت کو پورے طور پر پیش نظر رکھا ہے ۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے ، اس لیے اس نے مرد اور عورت کو ایک جیسا معاشرتی درجہ دینے کے ساتھ دونوں کا الگ الگ دائرہ عمل معین کردیا ہے ۔ خاندانی کفالت کی ذمہ داری مردوں پر ہے مگر خواتین کے ہاتھ بٹانے پر کوئی قدغن نہیں ۔ کئی لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ عورت کو گھر کی چار دیواری سے باہر قدم رکھنے کی قطعاً ممانعت ہے ۔ اسلام ہر گز ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ عورت جائز قسم کی اجتماعی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہوجائے ۔

تعلیم انسانیت کا زیور ہے ۔ کوئی بھی معاشرہ تعلیم کے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا ۔ حضور نبی کریم نے عالم کے قلم کی روشنائی کو شہید کے خون سے بہتر قرار دیا ہے مزید یہ کہ علم کا حصول مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے لازم ہے ۔ مختصر یہ کہ اسلام نے مردوں اور عورتوں کو ان کے جائز حقوق دیے ہیں اور ان میں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی ۔ گویا مہذب معاشروں کی تخلیق کے لیے بلاتخصیص مردوزن تعلیم کا حصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔

عورت بنیادی طور پر شرم و حیا کا پتلا ہوتی ہے ۔ شرم و حیا کو بجا طور پر عورت کا زیور قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ عظیم صفت خواتین میں اسی صورت میں برقرار رہ سکتی ہے جب وہ غیر مردوں سے میل جول نہ بڑھائیں ۔ اس صورت میں اس سماجی مرتبہ اور مقام کم نہیں ہوگا بلکہ اس میں یقینی طور پر اضافہ ہوگا ۔ مغربی معاشرے میں جہاں عورت اور مرد کے آزادانہ اختلاط پر کوئی قدغن نہیں ہے ۔ مادی ترقی کے بام عروج پر ہونے کے باوجود وہاں ایسے ایسے شرمناک واقعات روز مرہ کی زندگی کا معمول بن چکے ہیں کہ خدا کی پناہ ۔ وہاں کے بے لگام عورت نے آزادی نسواں کے نام پر نسوانیت اور انسانیت کا گلا ہی گھونٹ دیا ہے ۔

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کۃتے ہیں اس علم کو اربابِ نظر موت

لسان العصر اکبر الٰہ آبادی نے اپنی شاعری میں مشرق پسند عورت اور مغرب پرست عورت بڑی بے لاگ خامہ فرسائی کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں مغربی تعلیم نے ہماری عورت کو باورچی خانہ اور گھر داری سے نکال کر ناچ گھر اور بال روموں میں پہنچا دیا ہے ۔ اس فرق کو انہوں نے “شوہر پرست بیوی” اور “پبلک پسند لیڈی” کے الفاظ میں بیان کرکے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے ۔

اعزاز بڑھ گیا ہے ، آرام گھٹ گیا ہے

خدمت میں ہے وہ لیزی اور ناچنے کو ریڈی

تعلیم کی خرابی سے ہو گئی بالآخر

شوہر پرست بیوی ، پبلک پسند لیڈی

اکبرؔ خواتین کو ایسی تعلیم کے زیور سے آراستہ دیکھنے کے خواہش مند جو ان کے اخلاق و کردار میں مزید پختگی پیدا کرے ۔ وہ عورتوں کی دینی اور دنیاوی تعلیم کے خلاف بالکل نہیں ہیں ، مغربی اور جدید تعلیم کے نام پر مختلف خرافات اختیار کرنے کے خلاف ہیں ۔

تعلیم لڑکیوں کی ضروری تو ہے مگر

خاتونِ خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں

آزادی نسواں کے نام نہاد نعرے سے متاثر ہو کر کئی خواتین اپنی قدروں اور اخلاقی تقاضوں کو ملیا میٹ کر دیتی ہیں ۔ مشرق کا معاشرتی نظام اپنی ایک خاص انفرادیت رکھتا ہے جس میں شرم و حیا اساسی شرط ہے جبکہ مغرب کا معاشرہ کسی اور بات کا متقاضی ہے اور وہ ہے بے لگام آزادی ۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں عورت کو اس کے اصلی مقام یعنی گھر سے نکال کر محفلوں ، گلیوں ، شراب خانوں اور دوسرے گناہ کے اڈوں پر جانے کی کھلی آزادی دے گئی ہے ۔ آزادی نسواں کے نعرے کے تحت مغرب کے تتبع میں مشرقی عورت بھی مادر پدری آزادی کی خواہش مند ہے ۔ یہ امر عورتوں کے لیے شرمناک اور تباہ کن تو ہے مردوں کے لیے ندامت و خجالت کا باعث ہے ۔

بےپردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں

اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑھ گیا

پوچھا جو اُن کے پردے کو ، کیا ہوا

کہنے لگیں عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

عورت اگر چاہے تو اپنے عزت اور وقار کو ٹھیس پہنچائے بغیر ہر طرح کی سماجی ، معاشی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لے سکتی ہے ۔ ماضی عرب معاشرے میں دودھ پلانے والی عورتیں اُجرت پر بچوں کو دودھ پلایا کرتی تھیں ۔ اُم المومنین حضرت اُمِّ سلمیٰ سوت کاتنے میں مہارت رکھتی تھیں ۔ حضرت خدیجہ الکبری ؓ کا تجارت کا سلسلہ بہت وسیع تھا ۔ وہ شام کے تاجروں سے لین دین رکھتی تھیں اور ان کا شمار مکہ مکرمہ کے مشہور بڑے تاجروں میں ہوتا تھا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ محدثین اور مفسرین کی تربیت کا اہتمام کرتی تھیں ۔ حضرت زینب ؓ بنت علی المرتضیٰ نے اپنی شعلہ نوائی دربارِ دمشق میں لرزہ طاری کردیا ۔ خلیفہ ہارون الرشید کی ملکہ زبیدہ رفاہ و آسائش عامہ کے کاموں میں مشغول رہتی تھیں ۔ دنیا کی تاریخ میں بالعموم اور اسلامی تاریخ میں بالخصوص عورتوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو سماجی ، سیاسی اور معاشی امور میں مردوں کی برابری میں کام کرتی رہیں ۔ حضرت رابعہ بصری ، رابعہ قزداری ، رضیہ سلطانہ ، چاند بی بی ، گلبدن بیگم ، ارجمند بانو ہمسر شاہ جہاں ، ملکہ نور جہاں ، زیب النساء دختر اورنگ زیب عالمگیر ، مدام کیوری ، برانٹے سسٹرز ، جارج ایلیٹ ، جین آسٹن ، کشور ناہید ، پروین شاکر ، بے نظیر بھٹو اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا وغیرہ نے طبقہ نسواں سے تعلق رکھتے ہوئے قبل فخر کام کیے ہیں ۔ کئی خواتین نے تو ایسے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں کہ وہ مردوں سے آگے نکل گئی ہیں ۔

عورت کے کئی انداز اور کئی روپ ہیں قابل فخر بھی اور شرمناک بھی ۔ کہیں اس نے اپنے حسن و جمال سے ملکوں اور قوموں کے درمیان جنگ و جدل کے شعلوں کو ہوادی ہے ۔ کہیں مجبوراً اور کہیں ضرورتاً بکتی رہی ہے ۔ اس نے کہیں قصر و ایوان میں عالم پناہ شہنشا ہوں کے پر غرور سروں کو اپنے قدموں پر جھکایا ہے اور کہیں اس کی ناموس کی خاطر کڑیل جوانیاں آگ کے الاؤ میں کودتی رہی ہیں ۔ کہیں شعلہ کہیں شبنم ، کہیں موم کی پتلی کہیں بھاری چٹان ، کہیں بڑا دھوکا اور حضرت یوسف ؑ پر الزام ، کہیں ایثار و خلوص کی پتلی اور مردوں کے ہاتھ کھلونا ۔ غرض چشم فلک نے عورت کے سینکڑوں رنگ اور ہزاروں روپ دیکھے ہیں مگر کہ مسئلہ ہر دور ، ہر قوم اور ہر ملک میں زیر بحث رہا ہے کہ معاشرے میں عورت کا صحیح مقام کیا ہے ؟ بقول علامہ اقبال

ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا

مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں

جہاں تک رزائل اخلاق یا برائیوں کی بات ہے تو یہ امر عورتوں سے مشروط نہیں ۔ اولاد آدم میں غلطی ، کوتاہی تو جبلّی ہیں مگر جرم و گناہ کا عمل بہر حال اختیاری ہے ۔ اعمال حسنہ اور اعمال قبیحہ عورت یا مرد سے مخصوص نہیں ۔ اللہ رب العزت گناہ کی طاقت دے کر انسان کو فرشتوں سے برتر کردیا ہے کیونکہ ملائکہ معصوم عن لخطا ہیں ۔ تسبیح الٰہی اور تحمید کبریا ان کا اوڑھنا بچھونا ہے ۔ یہ انسان ہی ہے جو اپنے احسن اعمال سے عرش نشین بھی ہے اور اپنی بداعمالیوں سے اسفل سافلین کے درجے پر بھی پہنچ جاتا ہے ۔ جہاں تک عورت کے عمل کی بات ہے تو لوطؑ کی بیوی بھی عورت ہے اور فرعون کی بیوی عورت ہے ۔ ایک اپنے عمل کی وجہ سے ذلیل و رسوا اور دوسری اپنے حسن عمل سے عظیم و سر بلند ۔ یہی معاملہ مردوں کا ہے ۔

عورت کو ذہنی و جسمانی طور پر کمزور سمجھا جاتا ہے تاکہ خیال بھی باطل ہو چکا ہے ، کھیلوں میں جنگوں تعلیمی اداروں میں عدالتوں میں بنکوں فضائی میں بحریہ میں آج کو عورت ہر جگہ اپنے فرائض منصبی ادا کر رہی ہے اور اپنی قوم اور اپنی ریاست کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے ۔ نئی نسل کی تہذیب و تطہیر کرنے میں عورت پیش پیش ہے ۔ علامہ اقبال نے بجا طور پر فرمایا تھا ۔

مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن

اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

متبادل عنوانات :

عورت کی عظمت

اسلام میں عورت کا مقام

معاشرے میں عورت کا مقام اور مرتبہ

عورتوں کے مسائل

طبقہ نسواں اور ہمارے سماجی رویے

Leave a Comment

Your email address will not be published.